تحریر: مولانا گلزار جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| عدل جب محض قانون نہ رہے، بلکہ حقیقتِ ولایت کا مظہر بن جائے، تو وہ صرف افعال کا نہیں، نیتوں کا بھی محاسبہ کرتا ہے۔ ایسی عدالت میں سوال جرم سے آگے بڑھ کر باطن تک جا پہنچتا ہے، اور جواب عقل سے پھسل کر روح کی گہرائیوں سے ابھرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان خود اپنے خلاف گواہ بن جاتا ہے، اور زبان وہ کچھ کہہ جاتی ہے جسے دل چھپانا چاہتا ہے۔
امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی عدالت تلوار کے زور پر نہیں، نورِ حق کے غلبے پر قائم تھی۔ سیفِ انصاف یہاں محض لوہے کا ہتھیار نہیں بلکہ اس اصول کا استعارہ ہے کہ جب حق پوری قوت سے جلوہ گر ہو جائے تو باطل کے لیے خاموشی بھی ممکن نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دربار میں دشمن کی زبان سے بھی مدحت کا شائبہ پھوٹ پڑتا ہے، اور بغض اپنی ہی ضد میں اعتراف پر مجبور ہو جاتا ہے۔
عرفانِ ولایت کے مطابق حب و بغض اختیاری کیفیات نہیں بلکہ باطن کے آئینے ہیں۔ جو دل نورِ علیؑ سے آشنا ہو جائے، اس کے لیے قطع و برید بھی محبت کو کم نہیں کرتی؛ اور جو دل اس نور سے محروم ہو، اس کے لیے شہد کی مٹھاس بھی تلخی کو زائل نہیں کر سکتی۔ یہاں محبت صبر کی معراج بن جاتی ہے اور دشمنی اپنی ناکامی کا اعلان۔
یہ روایت اسی ازلی حقیقت کی شہادت ہے کہ ولایت، میزانِ عدالت ہی نہیں، میزانِ شعور بھی ہے۔ جو اس میزان میں پورا اتر گیا، وہ شفاعت کا مستحق ٹھہرا، اور جو اس سے روگرداں ہوا، وہ اپنی ہی زبان سے اپنے زوال کا اعتراف کر بیٹھا۔ یہی سیفِ انصاف کی کاٹ ہے، اور یہی زبانِ اعتراف کی مجبوری۔ روایت کے آخر میں نفاق کی پیشانی سے پشیمانی کا پسینہ یقینا نکلا ہوگا اگر نسلی بے حسی نے روح کو کثیف نہ کیا ہوگا تو اور شہنشاہ ولایت نے قیامت میں شفاعت کا یقین دلا کر موالیان حیدر کرار کو ایک نوید ابدی سنادی۔
سر دست روایت ملاحظہ فرمائیں عدالت کی دہلیز پر احساس کرم کی دستک اور سیف انصاف کا جاری ہونا اور سزا یافتہ کی زبان اعتراف اور منقبت میں مدح گستردہ ہونا۔
روایت عدالت کے حضور ملاحظہ فرمائیں!
رُوِيَ عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ: دَخَلْتُ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي جَامِعِ الْكُوفَةِ، فَإِذَا بِجَمٍّ غَفِيرٍ وَ مَعَهُمْ عَبْدٌ أَسْوَدُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا الْعَبْدُ سَارِقٌ. فَقَالَ لَهُ الْإِمَامُ: أَ سَارِقٌ أَنْتَ يَا غُلَامُ! فَقَالَ لَهُ: نَعَمْ. فَقَالَ لَهُ مَرَّةً ثَانِيَةً: أَ سَارِقٌ أَنْتَ يَا غُلَامُ! فَقَالَ: نَعَمْ يَا مَوْلَايَ. فَقَالَ لَهُ الْإِمَامُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنْ قُلْتَهَا ثَالِثَةً قَطَعْتُ يَمِينَكَ فَقَالَ أَ سَارِقٌ أَنْتَ يَا غُلَامُ! قَالَ: نَعَمْ يَا مَوْلَايَ.فَأَمَرَ الْإِمَامُ بِقَطْعِ يَمِينِهِ فَقُطِعَتْ، فَأَخَذَهَا بِشِمَالِهِ وَ هِيَ تَقْطُرُ دَماً، فَلَقِيَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ وَ كَانَ يَشْنَأُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ لَهُ: مَنْ قَطَعَ يَمِينَكَ؟ قالَ: قَطَعَ يَمِينِيَ الْأَنْزَعُ الْبَطِينُ، وَ بَابُ الْيَقِينِ، وَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ، وَ الشَّافِعُ يَوْمَ الدِّينِ الْمُصَلِّي إِحْدَى وَ خَمْسِينَ. قَطَعَ يَمِينِي إِمَامُ التُّقَى، وَ ابْنُ عَمِّ الْمُصْطَفَى، شَقِيقُ النَّبِيِّ الْمُجْتَبَى، لَيْثُ الثَّرَى غَيْثُ الْوَرَى، حَتْفُ الْعِدَى، وَ مِفْتَاحُ النَّدَى، وَ مِصْبَاحُ الدُّجَى. قَطَعَ يَمِينِي إِمَامُ الْحَقِّ، وَ سَيِّدُ الْخَلْقِ، [وَ] فَارُوقُ الدِّينِ، وَ سَيِّدُ الْعَابِدِينَ وَ إِمَامُ الْمُتَّقِينَ، وَ خَيْرُ الْمُهْتَدِينَ، وَ أَفْضَلُ السَّابِقِينَ، وَ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى الْخَلْقِ أَجْمَعِينَ.قَطَعَ يَمِينِي إِمَامٌ حَظِيٌّ بَدْرِيٌّ أُحُدِيٌّ مَكِّيٌّ مَدَنِيٌّ أَبْطَحِيٌّ هَاشِمِيٌّ قُرَشِيٌّ أَرْيَحِيٌّ مَوْلَوِيٌّ طَالِبِيٌّ جَرِيُّ قَوِيٌّ لَوْذَعِيٌّ الْوَلِيُّ الْوَصِيُّ.قَطَعَ يَمِينِي دَاحِي بَابِ خَيْبَرَ، وَ قَاتِلُ مَرْحَبٍ وَ مَنْ كَفَرَ، وَ أَفْضَلُ مَنْ حَجَّ وَ اعْتَمَرَ، وَ هَلَّلَ وَ كَبَّرَ، وَ صَامَ وَ أَفْطَرَ، وَ حَلَقَ وَ نَحَرَ.قَطَعَ يَمِينِي شُجَاعٌ جَرِيُّ، جَوَادٌ سَخِيٌّ، بُهْلُولٌ شَرِيفُ الْأَصْلِ [الْأُصُولِ «خ»] ابْنُ عَمِّ الرَّسُولِ، وَ زَوْجُ الْبَتُولِ وَ سَيْفُ اللَّهِ الْمَسْلُولُ، الْمَرْدُودُ لَهُ الشَّمْسُ عِنْدَ الْأُفُولِ.قَطَعَ يَمِينِي صَاحِبُ الْقِبْلَتَيْنِ، الضَّارِبُ بِالسَّيْفَيْنِ، الطَّاعِنُ بِالرُّمْحَيْنِ، [وَ] وَارِثُ الْمَشْعَرَيْنِ، الَّذِي لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ، أَسْمَحُ كُلِّ ذِي كَفَّيْنِ، وَ أَفْصَحُ كُلِّ ذِي شَفَتَيْنِ، أَبُو السَّيِّدَيْنِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ.قَطَعَ يَمِينِي عَيْنُ الْمَشَارِقِ وَ الْمَغَارِبِ، تَاجُ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ، أَسَدُ اللَّهِ الْغَالِبُ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ أَفْضَلُهَا وَ مِنَ التَّحِيَّاتِ أَكْمَلُهَا.فَلَمَّا فَرَغَ الْغُلَامُ عَنِ الثَّنَاءِ وَ مَضَى لِسَبِيلِهِ، دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْكَوَّاءِ عَلَى الْإِمَامِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ لَهُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ لَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: السَّلامُ عَلى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدى وَ خَشِيَ عَوَاقِبَ الرَّدَى. فَقَالَ لَهُ [ابْنُ الْكَوَّاءِ]: يَا أَبَا الْحَسَنَيْنِ قَطَعْتَ يَمِينَ غُلَامٍ أَسْوَدَ وَ سَمِعْتُهُ يُثْنِي عَلَيْكَ بِكُلِّ جَمِيلٍ. فَقَالَ: وَ مَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ؟ قَالَ: كَذَا وَ كَذَا. وَ أَعَادَ عَلَيْهِ جَمِيعَ مَا قَالَ الْغُلَامُ. فَقَالَ الْإِمَامُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِوَلَدَيْهِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ: امْضِيَا وَ أْتِيَانِي بِالْعَبْدِ. فَمَضَيَا فِي طَلَبِهِ فِي كِنْدَةَ فَقَالا لَهُ: أَجِبْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَا غُلَامُ. فَلَمَّا مَثُلَ بَيْنَ يَدَيْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَهُ: قَطَعْتُ يَمِينَكَ وَ أَنْتَ تُثْنِي عَلَيَّ بِمَا قَدْ بَلَغَنِي؟! فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا قَطَعْتَهَا إِلَّا بِحَقٍّ وَاجِبٍ أَوْجَبَهُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ. فَقَالَ الْإِمَامُ: أَعْطِنِي الْكَفَّ فَأَخَذَ الْإِمَامُ الْكَفَّ وَ غَطَاهُ بِالرِّدَاءِ، وَ كَبَّرَ وَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَ تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ وَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي آخِرِ دُعَائِهِ: آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. وَ رَكَّبَهُ عَلَى الزَّنْدِ وَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: اكْشِفُوا الرِّدَاءَ عَنِ الْكَفِّ. فَكَشَفُوا الرِّدَاءَ عَنِ الْكَفِّ وَ إِذَا الْكَفُّ عَلَى الزَّنْدِ بِإِذْنِ اللَّهِ.
ثُمَّ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَ لَمْ أَقُلْ لَكَ يَا ابْنَ الْكَ
ثُمَّ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَ لَمْ أَقُلْ لَكَ يَا ابْنَ الْكَوَّاءِ: إِنَّ لَنَا مُحِبِّينَ لَوْ قَطَعْنَا الْوَاحِدَ مِنْهُمْ إِرْباً إِرْباً مَا ازْدَادُوا إِلَّا حُبّاً، وَ لَنَا مُبْغِضِينَ لَوْ أَلْعَقْنَاهُمُ الْعَسَلَ مَا ازْدَادُوا إِلَّا بُغْضاً، وَ هَكَذَا مَنْ يُحِبُّنَا يَنَالُ شَفَاعَتَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
اردو ترجمہ: اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
ایک دن میں جامعِ کوفہ میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہاں ایک بڑا مجمع موجود تھا اور ان کے ساتھ ایک سیاہ فام غلام بھی تھا۔ لوگوں نے عرض کیا:
“یا امیر المؤمنین! یہ غلام چور ہے۔”
امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: “اے غلام! کیا تو نے چوری کی ہے؟”
اس نے کہا: “جی ہاں۔”
امام نے دو بارہ فرمایا:
“کیا تو نے چوری کی ہے؟”
اس نے عرض کیا: “جی ہاں، میرے مولا!”
پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: “اگر تیسری مرتبہ اعتراف کرے گا تو میں تیرا دایاں ہاتھ کاٹ دوں گا۔”
پھر فرمایا: “کیا تو نے چوری کی ہے؟”
اس نے کہا: “جی ہاں، میرے مولا!”
پس امام علیہ السلام نے اس کا دایاں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، اور وہ کاٹ دیا گیا۔ غلام نے اپنا کٹا ہوا ہاتھ بائیں ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا اور اس سے خون ٹپک رہا تھا۔
راستے میں اس کی ملاقات ابنِ کوّاء سے ہوئی، جو امیر المؤمنین علیہ السلام کا دشمن تھا۔ اس نے غلام سے کہا:“تیرا دایاں ہاتھ کس نے کاٹا؟”
غلام نے جواب دیا:“میرا دایاں ہاتھ اس ہستی نے کاٹا جو پیشانی سے بے بال، شکم والا، بابِ یقین، اللہ کی مضبوط رسی، قیامت کے دن شفاعت کرنے والا، اکاون رکعت نماز پڑھنے والا ہے۔
میرا ہاتھ امامِ تقویٰ نے کاٹا، جو مصطفیٰ ﷺ کے چچا زاد، نبیِ مجتبیٰ کے بھائی، زمین کا شیر، مخلوق کے لیے بارانِ رحمت، دشمنوں کی ہلاکت، سخاوت کی کنجی اور تاریکیوں کا چراغ ہے۔
میرا ہاتھ امامِ حق نے کاٹا، جو سردارِ خلائق، دین کا فرق کرنے والا، عابدوں کا سردار، متقیوں کا امام، ہدایت یافتہ لوگوں میں سب سے بہتر، سبقت لے جانے والوں میں افضل، اور تمام مخلوق پر اللہ کی حجت ہے۔
میرا ہاتھ اس امام نے کاٹا جو بدر، اُحد، مکہ اور مدینہ کا مجاہد، ابطحی، ہاشمی، قریشی، طالبی، شجاع، قوی، دانا، ولی اور وصی ہے۔
میرا ہاتھ خیبر کا دروازہ اکھاڑنے والے، مرحب اور کافروں کو قتل کرنے والے، بہترین حاجی و معتمر، ذکر و تسبیح کرنے والے، روزہ رکھنے اور افطار کرنے والے، سر منڈوانے اور قربانی کرنے والے نے کاٹا۔میرا ہاتھ اس بہادر، سخی، عالی نسب، رسولؐ کے چچا زاد، بتولؑ کے شوہر، اللہ کی کھینچی ہوئی تلوار نے کاٹا، جس کے لیے سورج پلٹایا گیا۔
میرا ہاتھ دو قبلوں کے صاحب، دو تلواروں سے ضرب لگانے والے، دو نیزوں سے وار کرنے والے، مشعرین کے وارث، جس نے کبھی پلک جھپکنے کے برابر بھی شرک نہیں کیا، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ فصیح، حسنؑ و حسینؑ کے باپ نے کاٹا۔
میرا ہاتھ مشرق و مغرب کی آنکھ، لؤی بن غالب کا تاج، اللہ کا غالب شیر، علی بن ابی طالب علیہ السلام نے کاٹا — جن پر درود و سلام سب سے افضل اور کامل ہے۔”
جب غلام اپنی مدح سرائی مکمل کر کے چلا گیا تو عبداللہ بن کوّاء امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا۔ امام نے فرمایا:“سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے اور ہلاکت کے انجام سے ڈرے۔”
ابنِ کوّاء نے کہا:“اے ابو الحسنین! آپ نے ایک غلام کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا، مگر میں نے اسے آپ کی بے مثال تعریف کرتے سنا۔”
امام علیہ السلام نے فرمایا: “اس نے کیا کہا؟” اس نے سارا واقعہ دہرا دیا۔
اس پر امام علیہ السلام نے اپنے فرزندوں حسنؑ و حسینؑ سے فرمایا:“جاؤ اور اس غلام کو میرے پاس لے آؤ۔”
وہ اسے لے آئے۔ امام علیہ السلام نے غلام سے فرمایا:“میں نے تیرا دایاں ہاتھ کاٹا اور تو میری ایسی تعریف کر رہا تھا؟”
غلام نے عرض کیا:“یا امیر المؤمنین! آپ نے میرا ہاتھ صرف اس حق کے تحت کاٹا جو اللہ اور اس کے رسول نے واجب کیا ہے۔”
امام علیہ السلام نے فرمایا:“اپنا ہاتھ مجھے دو۔”امام نے کٹا ہوا ہاتھ لیا، اسے اپنی چادر سے ڈھانپا، تکبیر کہی، دو رکعت نماز پڑھی، کچھ کلمات دعا میں کہے، اور آخر میں فرمایا:“آمین یا رب العالمین!”
پھر امام نے اس ہاتھ کو کلائی سے جوڑا اور فرمایا:“چادر ہٹاو۔” جب چادر ہٹائی گئی تو دیکھا گیا کہ اللہ کے حکم سے ہاتھ بالکل صحیح سلامت جڑ چکا تھا۔
پھر امیر المؤمنینؑ نے فرمایا: “اے ابنِ کوّاء ! کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ ہمارے ایسے محبت ہیں کہ اگر ہم اُن میں سے کسی ایک کو ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں تو اُن کی محبت میں اضافہ ہی ہوگا، اور ہمارے ایسے دشمن بھی ہیں کہ اگر ہم اُنہیں شہد بھی چٹا دیں تو اُن کی دشمنی میں ہی اضافہ ہوگا۔
اور حقیقت یہی ہے کہ جو ہم سے محبت رکھتا ہے، وہ قیامت کے دن ہماری شفاعت پائے گا۔”
حوالہ (پوری روایت کا مأخذ)
یہ روایت متعدد شیعہ مصادر میں نقل ہوئی ہے، جن میں سے اہم درج ذیل ہیں:
علامہ مجلسیؒ، بحار الأنوار
جلد 27، باب: حبّ علیؑ و بغضه
صفحہ: مختلف طبعات میں قدرے فرق کے ساتھ (اکثر طبعات میں ص 84 کے اطراف)
شیخ صدوقؒ، الأمالی
مجلس: ابنِ کوّاء سے مناظرہ و کلامِ امیرالمؤمنینؑ کے ضمن میں
شیخ مفیدؒ، الإرشاد
باب: امیرالمؤمنینؑ کے کلمات و خطبات









آپ کا تبصرہ